اشاعتیں

naat Sharif لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

Tumhare Zarre Ke Partou Sitaar-haye Falak,تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک,तुम्हारे ज़र्रे के परतौ सितारहाए फ़लक,Hindi And English Naat Lyrics,

تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک Tumhare Zarre Ke Partou Sitaar-haye Falakतुम्हारे ज़र्रे के परतौ सितारहाए फ़लक   تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک   تمہارے نعل کی ناقِص مِثل ضیائے فلک   اگرچہ چھالے ستاروں سے پڑ گئے لاکھوں      مگر تمہاری طلب میں تھکے نہ پائے فلک  سرِ فلک نہ کبھی تابہ آستاں پہنچا   کہ اِبتدائے بُلندی تھی اِنتہائے فلک   یہ مٹ کے ان کی رَوِش پر ہوا خود اُن کی رَوِش   کہ نقشِ پا ہے زَمیں پر نہ صَوْتِ پائے فلک   تمہاری یاد میں گزری تھی جاگتے شب بھر   چلی نسیم، ہوئے بند دِیدہائے فلک   نہ جاگ اُٹھیں کہیں اہلِ بقیع کچی نیند   چلا یہ نرم نہ نِکلی صَدائے پائے فلک   یہ اُن کے جلوہ نے کیں گرمیاں شبِ اسرا   کہ جب سے چرخ میں ہیں نقرہ و طلائے فلک   مِرے غنی نے جواہر سے بھر دِیا دامن    گیا جو کاسۂ مہ لے کے شب گدائے فلک   رہا جو قانعِ یک نانِ سوختہ دن بھَر    مِلی حضور سے کانِ گہر جزائے فلک   تجمل شبِ اسرا ابھی سمٹ نہ چکا ...

Naare Dozakh Ko Chaman Kar De Bahare Aariz lyrics, نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہار عارِض

 نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہار عارِضNaare Dozakh Ko Chaman Kar De Bahare Aariz lyrics   نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہار عارِض   ظلمتِ حشر کو دِن کر دے نہارِ عارِض  میں تو کیا چیز ہوں خود صاحبِ قرآں کو شہا  لاکھ مصحف سے پسند آئی بہارِ عارِض   جیسے قرآن ہے وِرد اس گلِ محبوبی کا   یُوں ہی قرآں کا وظیفہ ہے وقارِ عارِض जाگر   گر چہ قرآں ہے نہ قرآں کی برابر لیکن   کچھ تو ہے جس پہ ہے وہ مَدح نگارِ عارِض   طُور کیا عرش جلے دیکھ کے وہ جلوئہ گرم   آپ عارِض ہو مگر آئینہ دارِ عارِض   طرفہ عالم ہے وہ قرآن اِدھر دیکھیں اُدھر   مصحفِ پاک ہو حیران بہارِ عارض   ترجمہ ہے یہ صفت کا وہ خود آئینۂ ذات    کیوں نہ مصحف سے زیادہ ہو وقارِ عارض   جلوہ فرمائیں رخِ دل کی سیاہی مِٹ جائے   صبح ہو جائے الٰہی شبِ تارِ عارض   نامِ حق پر کرے محبوب دل و جاں قرباں      حق کرے عرش سے تا فرش نثارِ عارض   مشک بو زلف سے رُخ چہرہ سے بالوں میں شعاع   معجز...

Tooba Main Jo Sab Se Unchee Nazuk Seedhi Niklee Shaakh Naat Lyrics,طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ

طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ Tooba Main Jo Sab Se Unchee Nazuk Seedhi Niklee Shaakh Naat Lyrics  طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ مانگوں نعت نبی لکھنے کو روحِ قُدس سے ایسی شاخ مولیٰ گُلْبُن، رحمت زہر ا، سِبْطَین([2])اس کی کلیاں پُھول صدّیق وفاروق و عثماں ، حیدر ہر اِک اُس کی شاخ شاخِ قامت شہ میں زلف و چشم و رخسار و لب ہیں    سُنْبُل، نرگس، گُل، پنکھڑیاں قُدرت کی کیا پھولی شاخ اپنے اِن باغوں کا صدقہ وہ رحمت کا پانی دے جس سے نخلِ دل میں ہو پیدا پیارے تیری وِلا کی شاخ یادِ رُخ میں آہیں کر کے بن میں میں رویا آئی بہار جُھومیں نسیمیں ، نیساں برسا، کلیاں چٹکیں ، مہکی شاخ ظاہر و باطن اَوّل و آخر زیب فروع و زَین اُصول باغِ رسالت میں ہے تُو ہی گل، غنچہ، جڑ، پتّی شاخ آلِ احمد خُذْ بیَدِیْ یا سَیّد حمزہ کن مَددی وقت خزانِ عمر رضاؔ ہو برگِ ہدیٰ سے نہ عارِی شاخ ٭…٭…٭…٭…٭… ٭ Tooba Main Jo Sab Se Unchee Nazuk Seedhi Niklee Shaakh Naat Lyrics Tooba mein jo sab se umch...