وہی ربّ ہے جس نے تجھ کو ہَمہ تن کرم بنایا
وہی ربّ ہے جس نے تجھ کو ہَمہ تن کرم بنایا ہمیں بھیک مانگنے کو تِرا آستاں بتایا تجھے حمد ہے خدایا تمہِیں حاکمِ برایا تمہِیں قاسمِ عطایا تمہِیں دافعِ بلایا تمہِیں شافعِ خطایا کوئی تم سا کون آیا وہ کنواری پاک مریم وہ نَفَخْتُ فِیْہکا دم ہے عجب نشانِ اعظم مگر آمنہ کا جایا وہی سب سے افضل آیا یہی بولے سِدرہ والے چمنِ جہاں کے تھالے سبھی میں نے چھان ڈالے تِرے پایہ کا نہ پایا تجھے یک نے یک بنایا فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ یہ ملا ہے تم کو مَنصَب جو گدا بنا چکے اب اُٹھو وقتِ بخشِش آیا کرو قسمتِ عطایا وَ اِلَی الْاِلٰہِ فَارْغَبْ کرو عرض سب کے مَطلب کہ تمہیں کو تکتے ہیں سب کرو اُن پر اپنا سایا بنو شافعِ خطایا ارے اے خدا کے بندو! کوئی میرے دل کو ڈھونڈو مرے پاس تھا ابھی تو ابھی کیا ہوا خدایا نہ کوئی گیا نہ آیا ہمیں اے رضاؔ ترے دل کا پتا چلا بہ مشکل درِ روضہ کے مقابل وہ ہمیں نظر تو آیا یہ نہ پوچھ کیسا پایا کبھی خَندَہ زیر لب ہے کبھی گریہ ساری شب ہے کبھی غم کبھی طَرب ہے نہ سبب سمجھ میں آیا نہ اسی نے کچھ بتایا کبھی خاک پر ...