اشاعتیں

hadaiq e bakhshish naat Sharif لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

Wah kya judo karam hai sahe but-ha tera, وہ کیا جودو کرم ہے شہ بطحا تیرا,वाह क्या जूदो करम है शहे बत्हा तेरा,

 وہ کیا جودو کرم ہے شہ بطحا تیرا نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا   دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا   فیض ہے شہ تسنیم نرالا تیرا آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا   اغنیا پلتے ہیں درسے وہ ہے باڑہ تیرا  اصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستا تیرا   فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانے  خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا   اسمان خوان زمین خوان زمانہ مہمان  صاحب خانہ لقب کس کا ہے تیرا تیرا   میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب  یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا   تیرے قدموں میں جو ہے غیر کا منہ کیا دیکھے  کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوار تیرا    بحر سائل کا ہوں سائل نہ کنویں کا پیاسا  خود بجھا جائے کلیجہ میرا چھینٹا تیرا   چور حاکم سے چھپا کرتے ہیں یا اس کے خلاف  تیرے دامن میں چھپے چور انوکھا تیرا    انکھیں ٹھنڈی ہو جگر تازے ہوں جانے سیراب  سچے سورج وہ دل آرا ہے اجالا تیرا    دل عبث خوف سے پتاسا اڑا جاتا ہے پلہ ہلکہ ہی سہی بھاری ہے بھر...