اشاعتیں

Gum ho gae be shumaar aaqa،ग़म हो गए बे शुमार आक़ा، غم ہو گئے بے شمار آقا،کلام اعلی حضرت لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

Tooba Main Jo Sab Se Unchee Nazuk Seedhi Niklee Shaakh Naat Lyrics,طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ

طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ Tooba Main Jo Sab Se Unchee Nazuk Seedhi Niklee Shaakh Naat Lyrics  طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ مانگوں نعت نبی لکھنے کو روحِ قُدس سے ایسی شاخ مولیٰ گُلْبُن، رحمت زہر ا، سِبْطَین([2])اس کی کلیاں پُھول صدّیق وفاروق و عثماں ، حیدر ہر اِک اُس کی شاخ شاخِ قامت شہ میں زلف و چشم و رخسار و لب ہیں    سُنْبُل، نرگس، گُل، پنکھڑیاں قُدرت کی کیا پھولی شاخ اپنے اِن باغوں کا صدقہ وہ رحمت کا پانی دے جس سے نخلِ دل میں ہو پیدا پیارے تیری وِلا کی شاخ یادِ رُخ میں آہیں کر کے بن میں میں رویا آئی بہار جُھومیں نسیمیں ، نیساں برسا، کلیاں چٹکیں ، مہکی شاخ ظاہر و باطن اَوّل و آخر زیب فروع و زَین اُصول باغِ رسالت میں ہے تُو ہی گل، غنچہ، جڑ، پتّی شاخ آلِ احمد خُذْ بیَدِیْ یا سَیّد حمزہ کن مَددی وقت خزانِ عمر رضاؔ ہو برگِ ہدیٰ سے نہ عارِی شاخ ٭…٭…٭…٭…٭… ٭ Tooba Main Jo Sab Se Unchee Nazuk Seedhi Niklee Shaakh Naat Lyrics Tooba mein jo sab se umch...

ग़म हो गए बे शुमार आक़ा،Gum ho gae be shumaar aaqa، غم ہو گئے بے شمار آقا،

  غم ہوگئے بے شمار آقا हो गए बे शुमार आक़ाGum ho gae be shumaar aaqa https://mustafakibaten.blogspot.com/  غم ہو گئے بے شمار آقا بندہ تیرے نثار آقا ِبگڑا جاتا ہے کھیل میرا آقا آقا سنوار آقا منجدھار پہ آ کے ناؤ ٹوٹی دے ہاتھ کہ ہُوں میں پار آقا ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری لِلّٰہ یہ بوجھ اُتار آقا ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہ بھاری ہے تِرا وقار آقا مجبور ہیں ہم تو فِکر کیا ہے تم کو تو ہے اِختیار آقا میں دُور ہوں تم تو ہو مِرے پاس سُن لو میری پکار آقا مجھ سا کوئی غمزدہ نہ ہوگا تم سا نہیں غم گُسار آقا گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی ڈُوبا ڈُوبا، اُتار آقا تُم وہ کہ کرم کو ناز تم سے میں وہ کہ بدی کو عار آقا پھر منھ نہ پڑے کبھی خزاں کا دے دے ایسی بہار آقا جس کی مرضی خدا نہ ٹالے میرا ہے وہ نامدار آقا ہے ملکِ خدا پہ جس کا قبضہ میرا ہے وہ کامگار آقا سویا کیے نابکار بندے رَویا کیے زار زار آقا کیا بھول ہے ان کے ہوتے کہلائیں    دُنیا کے یہ تاجدار آقا اُن کے ادنی گدا پہ مِٹ جائیں      ایسے ایسے ہزار آقا بے ابرِ کرم کے میرے دھبّے لَا ...