،بندہ ملنے کو قریب حضرت قادر گیا ،Banda milney ko qareeb-e-hazrate qadir gaya،बन्दा मिलने को क़रीबे ह़ज़रते क़ादिर गया،
بندہ ملنے کوقریب حضرت قادر گیا Banda milney ko qareeb-e-hazrate qadir gaya बन्दा मिलने को क़रीबे ह़ज़रते का़दिर गया بندہ ملنے کو قریب حضرتِ قادر گیا لمعۂ باطن میں گمنے جلوئہ ظاہر گیا تیری مرضی پاگیا سورج پِھرا اُلٹے قدم تیری اُنگلی اُٹھ گئی مہ کا کلیجا چر گیا بڑھ چلی تیری ضیا اَندھیر عالم سے گھٹا کھل گیا گیسو ترا رحمت کا بادل گھر گیا بندھ گئی تیری ہوا ساوَہ میں خاک اُڑنے لگی بڑھ چلی تیری ضیا آتش پہ پانی پھر گیا تیری رَحمت سے صَفِیُّ اللّٰہ ([1])کا بیڑا پار تھا تیرے صدقے سے نَجِیُّ اللّٰہ ([2]) کا بجرا تر گیا تیری آمد تھی کہ بیَتُ اللّٰہ مُجرے کو جھکا تیری ہیبت تھی کہ ہر بُت تھر تھرا کر گر گیا مومن اُن کا کیا ہوا اللّٰہ اس کا ہو گیا کافر اُن سے کیا پِھرا اللّٰہ ہی سے پھر گیا وہ کہ اُس دَر کا ہُوا خَلْقِ خدا اُس کی ہوئی وہ کہ اس دَر سے پھرا اللّٰہ اُس سے پھر گیا مجھ کو دِیوانہ بتاتے ہو میں وہ ہشیار ہوں پاؤں جب طوفِ حرم میں تھک گئے سر پھر گیا رَحْمَۃٌ لِّلْعَا لَمِیْن آفت میں ہُوں کیسی کروں...