نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہو نا تھا،न आस्मान को यूं सर कशीदा होना था، Na aasman ko yun sar kashida hona tha، نہ آسمان کو یوں سرکَشیدہ ہونا تھا حضورِ خاکِ مَدینہ خمیدہ ہونا تھا اگر گلوں کو خزاں نارسیدہ ہونا تھا کنارِ خارِ مَدینہ دَمیدہ ہونا تھا حضور اُن کے خلافِ اَدب تھی بیتابی مِری امید! تجھے آرمیدہ ہونا تھا نظارہ خاکِ مَدینہ کا اور تیری آنکھ نہ اسقدر بھی قمر شوخ دِیدہ ہونا تھا کنارِ خاکِ مدینہ میں راحتیں ملتیں دلِ حزیں ! تجھے اَشک چکیدہ ہونا تھا پناہِ دامنِ دَشتِ حرم میں چین آتا نہ صبر دل کو غزالِ رَمیدہ ہونا تھا یہ کیسے کھلتا کہ انکے سِوا شفیع نہیں عَبَث نہ اَوروں کے آگے تپیدہ ہونا تھا ہلال کیسے نہ بنتا کہ ماہِ کامل کو سلامِ اَبروئے شَہ میں خمیدہ ہونا تھا لَاَمْلَئَنَّ ([1])جَہَنَّم تھا وَعْدئہ اَزَلی نہ مُنکروں کا عَبَث بدعقیدہ ہونا تھا نسیم کیوں نہ شمیم ان کی طیبہ سے لاتی کہ صبحِ گل کو گریباں دَریدہ ہونا تھا ٹپکتا رنگِ جنوں عشقِ شہ میں ہر گل سے رگِ بَہار کو نشتر رَسیدہ ہو...
تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا تو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیاسا تیرا سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈوبے افقِ نور پہ ہے مہر ہمیشہ تیرا مرغ سب بولتے ہیں بول کے چپ رہتے ہین ہاں اصیل ایک نوا سنج رہے گا تیرا جو ولی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے سب ادب رکھتے ہیں دل میں مرے آقا تیرا بقسم کہتے ہیں شاہان صریفین و حریم کہ ہوا ہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا تجھ سے اور دہر کے اقطاب سے نسبت کیسی قطب خود کون ہے خادم ترا چیلا تیرا سارے اقطاب جہاں کرتے ہیں کعبہ کا طواف کعبہ کرتا ہے طواف در والا تیرا اور پروانے ہیں جو ہوتے ہیں کعبہ پہ نثار شمع اک تو‘ ہے کہ پروانہ ہے کعبہ تیرا شجرِ سرو کہی کس کے اگائے تیرے معرفت پھول سہی کس کا کھلایا تیرا تو ہے نوشاہ براتی ہے یہ سارا گلزار لائی ہے فصل سمن گوندھ کے سہرا تیرا ڈالیاں جھومتی ہیں رقص خوشی جوش پہ ہے بلبلیں جھولتی ہیں گاتی ہیں سہرا تیرا گیت کلیوں کی چٹک غزلیں ہزاروں ک چہک باغ کے سازوں میں بجتا ہے ترانا تیرا صف ہر شجرہ مین ہوتی ہے سلامی تیری شاخیں جھک جھک کے بجا لاتی ہیں مجرا تیرا کس گلستاں کو نہیں فصلِ بہاری سے نیاز کون سے سلسلہ میں فیض نہ آیا تیرا نہیں...
وہ کیا جودو کرم ہے شہ بطحا تیرا نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا فیض ہے شہ تسنیم نرالا تیرا آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا اغنیا پلتے ہیں درسے وہ ہے باڑہ تیرا اصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستا تیرا فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانے خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا اسمان خوان زمین خوان زمانہ مہمان صاحب خانہ لقب کس کا ہے تیرا تیرا میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا تیرے قدموں میں جو ہے غیر کا منہ کیا دیکھے کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوار تیرا بحر سائل کا ہوں سائل نہ کنویں کا پیاسا خود بجھا جائے کلیجہ میرا چھینٹا تیرا چور حاکم سے چھپا کرتے ہیں یا اس کے خلاف تیرے دامن میں چھپے چور انوکھا تیرا انکھیں ٹھنڈی ہو جگر تازے ہوں جانے سیراب سچے سورج وہ دل آرا ہے اجالا تیرا دل عبث خوف سے پتاسا اڑا جاتا ہے پلہ ہلکہ ہی سہی بھاری ہے بھر...
سر تا بقدم ہے تن سُلطانِ زَمن پھول لب پھول دَہن پھول ذَقن پھول بدن پھول صدقے میں تِرے باغ تو کیا لائے ہیں ’’بن‘‘ پھول اِس غُنْچۂ دل کو بھی تو اِیما ہو کہ بن پھول تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا تم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہِ محن پھول وَاللّٰہ جو مِل جائے مِرے گل کا پسینہ مانگے نہ کبھی عِطْر نہ پھر چاہے دُلہن پھول دِل بستہ و خُوں گشتہ نہ خوشبُو نہ لطافت کیوں غنچہ کہوں ہے مِرے آقا کا دَہن پھول شب یاد تھی کن دانتوں کی شبنم کہ دَمِ صبح شوخانِ بہاری کے جڑاؤ ہیں کرن پھول دندان و لب و زلف و رُخِ شہ کے فِدائی ہیں دُرِّ عدن ، لعلِ یمن ، مُشکِ ختن پھول بو ہو کہ نہاں ہو گئے تابِ رُخِ شہ میں لَو بن گئے ہیں اب تو حسینوں کا دہن پھول ہوں بارِ گنہ سے نہ خجل دوشِ عزیزاں ﷲ مِری نعش کر اے جانِ چمن پھول دِل اپنا بھی شیدائی ہے اس ناخنِ پا کا اتنا بھی مہِ نو پہ نہ اے چرخ کُہن! پھول دِل کھول کے خُوں رو لے غمِ عارضِ شہ میں نکلے تو کہیں حسرتِ خوں نابہ شدن پھول کیا غازہ مَلا گردِ مدینہ کا جو ہے آج ...
بندہ ملنے کوقریب حضرت قادر گیا Banda milney ko qareeb-e-hazrate qadir gaya बन्दा मिलने को क़रीबे ह़ज़रते का़दिर गया بندہ ملنے کو قریب حضرتِ قادر گیا لمعۂ باطن میں گمنے جلوئہ ظاہر گیا تیری مرضی پاگیا سورج پِھرا اُلٹے قدم تیری اُنگلی اُٹھ گئی مہ کا کلیجا چر گیا بڑھ چلی تیری ضیا اَندھیر عالم سے گھٹا کھل گیا گیسو ترا رحمت کا بادل گھر گیا بندھ گئی تیری ہوا ساوَہ میں خاک اُڑنے لگی بڑھ چلی تیری ضیا آتش پہ پانی پھر گیا تیری رَحمت سے صَفِیُّ اللّٰہ ([1])کا بیڑا پار تھا تیرے صدقے سے نَجِیُّ اللّٰہ ([2]) کا بجرا تر گیا تیری آمد تھی کہ بیَتُ اللّٰہ مُجرے کو جھکا تیری ہیبت تھی کہ ہر بُت تھر تھرا کر گر گیا مومن اُن کا کیا ہوا اللّٰہ اس کا ہو گیا کافر اُن سے کیا پِھرا اللّٰہ ہی سے پھر گیا وہ کہ اُس دَر کا ہُوا خَلْقِ خدا اُس کی ہوئی وہ کہ اس دَر سے پھرا اللّٰہ اُس سے پھر گیا مجھ کو دِیوانہ بتاتے ہو میں وہ ہشیار ہوں پاؤں جب طوفِ حرم میں تھک گئے سر پھر گیا رَحْمَۃٌ لِّلْعَا لَمِیْن آفت میں ہُوں کیسی کروں...
وہی ربّ ہے جس نے تجھ کو ہَمہ تن کرم بنایا ہمیں بھیک مانگنے کو تِرا آستاں بتایا تجھے حمد ہے خدایا تمہِیں حاکمِ برایا تمہِیں قاسمِ عطایا تمہِیں دافعِ بلایا تمہِیں شافعِ خطایا کوئی تم سا کون آیا وہ کنواری پاک مریم وہ نَفَخْتُ فِیْہکا دم ہے عجب نشانِ اعظم مگر آمنہ کا جایا وہی سب سے افضل آیا یہی بولے سِدرہ والے چمنِ جہاں کے تھالے سبھی میں نے چھان ڈالے تِرے پایہ کا نہ پایا تجھے یک نے یک بنایا فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ یہ ملا ہے تم کو مَنصَب جو گدا بنا چکے اب اُٹھو وقتِ بخشِش آیا کرو قسمتِ عطایا وَ اِلَی الْاِلٰہِ فَارْغَبْ کرو عرض سب کے مَطلب کہ تمہیں کو تکتے ہیں سب کرو اُن پر اپنا سایا بنو شافعِ خطایا ارے اے خدا کے بندو! کوئی میرے دل کو ڈھونڈو مرے پاس تھا ابھی تو ابھی کیا ہوا خدایا نہ کوئی گیا نہ آیا ہمیں اے رضاؔ ترے دل کا پتا چلا بہ مشکل درِ روضہ کے مقابل وہ ہمیں نظر تو آیا یہ نہ پوچھ کیسا پایا کبھی خَندَہ زیر لب ہے کبھی گریہ ساری شب ہے کبھی غم کبھی طَرب ہے نہ سبب سمجھ میں آیا نہ اسی نے کچھ بتایا کبھی خاک پر ...
تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک Tumhare Zarre Ke Partou Sitaar-haye Falakतुम्हारे ज़र्रे के परतौ सितारहाए फ़लक تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک تمہارے نعل کی ناقِص مِثل ضیائے فلک اگرچہ چھالے ستاروں سے پڑ گئے لاکھوں مگر تمہاری طلب میں تھکے نہ پائے فلک سرِ فلک نہ کبھی تابہ آستاں پہنچا کہ اِبتدائے بُلندی تھی اِنتہائے فلک یہ مٹ کے ان کی رَوِش پر ہوا خود اُن کی رَوِش کہ نقشِ پا ہے زَمیں پر نہ صَوْتِ پائے فلک تمہاری یاد میں گزری تھی جاگتے شب بھر چلی نسیم، ہوئے بند دِیدہائے فلک نہ جاگ اُٹھیں کہیں اہلِ بقیع کچی نیند چلا یہ نرم نہ نِکلی صَدائے پائے فلک یہ اُن کے جلوہ نے کیں گرمیاں شبِ اسرا کہ جب سے چرخ میں ہیں نقرہ و طلائے فلک مِرے غنی نے جواہر سے بھر دِیا دامن گیا جو کاسۂ مہ لے کے شب گدائے فلک رہا جو قانعِ یک نانِ سوختہ دن بھَر مِلی حضور سے کانِ گہر جزائے فلک تجمل شبِ اسرا ابھی سمٹ نہ چکا ...
محمد مظہرِ کامل ہےحق کی شانِ عزّت کا Muhmmad Majhar Kamil Hain Haq Ki Shaan Izzat Ka https://mustafakibaten.blogspot.com/ محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا نظر آتا ہے اِس کثرت میں کچھ انداز وحدت کا یہی ہے اصل عالم مادّہ ایجادِ خلقت کا یہاں وحدت میں برپا ہے عجب ہنگامہ کثرت کا گدا بھی منتظر ہے خلد میں نیکوں کی دعوت کا خدا دِن خیر سے لائے سخی کے گھر ضیافت کا گنہ مَغفُور، دل روشن، خنک آنکھیں ، جگر ٹھنڈا [1] ترجمہ : انھیں سمندر نہ دھوئیں ۔۱۲ [2] ترجمہ : ہلاکت اس کے پاس نہ آئے۔۱۲ تَعَالَی اللّٰہ! مَاہِ طیبہ عالم تیری طلعت کا نہ رکھی گل کے جوشِ حسن نے گلشن میں جَا باقی چٹکتا پھر کہاں غنچہ کوئی باغِ رسالت کا بڑھا یہ سِلسلہ رحمت کا دَورِ زلفِ والا میں تسلسل کالے کوسوں رہ گیا عِصیاں کی ظلمت کا صَفِ مَاتَم اُٹھے ، خالی ہوزِنداں، ٹوٹیں زَنجیریں گنہگارو! چلو مولیٰ نے دَر کھولا ہے جنت کا سکھایا ہے یہ کس گستاخ نے آئینہ کو یارب نَظَّارہ رُوئے جاناں کا بہانہ کر کے حیرت کا اِدھر ُامّت کی حسرت پر ا...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں